کے ڈی کے نیوز نیٹ ورک
آج 18 نومبر بروز پیر شام 5 بجے سے انتخابی مہم ختم ہوجائے گی۔ پرسوں بدھ 20 نومبر کو ووٹنگ ہے۔ ایسے میں شہر کے اسمبلی انتخابات کے دو حصوں مشرقی اور مغربی دو حصوں میں بٹے ہوئے ووٹرز کو اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر اور پورے ہوش وحواس کے ساتھ ووٹ دینا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بعد اگلے 5 سالوں تک آپ اس میں تبدیلی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ اپنے جذبات/رشتوں سے بالاتر ہو کر اپنے شہر کی فلاح و بہبود اور ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آئینی حق کا استعمال کریں۔ کیونکہ جب سے انتخابات شروع ہوئے ہیں آپ کے پاس تمام طرح کے لوگ طرح طرح کی دلیلوں کے ساتھ اپنی خود کی پسند، اپنے خیالات آپ پر مسلط کرنے یا گمراہ کرنے کے لیے آئے ہوں۔ لیکن آپ ایسے نام نہاد مولاناوں کے فرمان یا جیبی/کاغذی مسلم تنظیموں اور دگی ہوئی کارتوس قسم کی رائے دینے والوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ کیونکہ ان کی ڈور یا ڈیل کسی نہ کسی طریقے سے کسی نہ کسی امیدوار کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں کی قوم و ملت کے ساتھ ہی تمام طرح کی دلیلوں سے آپ کو متاثر کرکے آپ کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مختلف شکلوں میں دھوکے باز بن کر آپ کے پاس آئیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ انتخابات میں اب میڈیا کی زمینی خبروں کی غیر جانبداری اور سچائی تقریباً دم توڑ چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں آپ کو پیڈ خبروں ، بوگس سروے، اشتہارات جیسے یوٹیوب ویڈیوز وغیرہ کے ذریعے ووٹروں کو دھوکہ دینے یا ورغلانے کی کوششیں تقریباً تمام امیدوار کر رہے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کے یہ خبر ہے یا زمینی سچائی ہے لیکن حقیقت میں یہ خبر کی شکل میں امیدوار کا اشتہار ہوتا ہے۔ میڈیا کے کچھ لوگ براہ راست لوگوں کو بتاتے ہیں جبکہ کچھ ڈرپوک قسم کے صحافی دور سے گھما پھرا کر قوم و ملت کا ڈراپ آپ کو پلاتے ہیں کیونکہ ایسے صحافیوں میں ہمت کی شدید کمی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی بات کو گھما پھرا کر حوالوں کے حوالے کرتے ہیں۔ اس قسم کے صحافی اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب معاشرہ طرح طرح کے مسائل اور پریشانیوں سے نبرد آزما ہوتا ہے تب ان کی زبان کیوں مفلوج ہو جاتی ہے اور قلم کی سیاہی سوکھ جاتی ہے؟
واضح ہو کہ بھیونڈی شہر ہر طرح کی بنیادی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے بدحالی کی زندہ تصویر بن گیا ہے۔ تب یہ قوم و ملت کی جگالی کرنے والے نام نہاد مولانا یا تنظیم کے لوگ کس بل میں گھس جاتے ہیں؟ بھیونڈی کے عوام کی نام نہاد بھلائی یا قوم کی فلاح و بہبود کا فریب دینے والے الیکشن آتے ہی کیسے ککر متوں کی طرح اگ کر چائے کی پیالی میں طوفان برپا کر دیتے ہیں۔ تب ان ڈرپوک قسم کے صحافیوں کو شہر کی سڑکوں کی حالت زار، تعلیم و صحت کا فقدان، اذیت ناک ٹریفک اور میونسپل کارپوریشن سمیت پولیس انتظامیہ کی جانبداری کا کارنامہ کیوں نظر نہیں آتا؟ کیا آپ نے کبھی اس پر توجہ دے کر کمیونٹی کو بیدار کرنے کا کام کیا ہے؟ ایسے صحافی/سماجی کارکن/مولانا صرف الیکشن کے دوران ہی چارج/ریچارج کیوں ہوجاتے ہیں؟
اس لیے لوگوں کو بہت سوچ سمجھ کر اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے کسی ایک کے حق میں ووٹ دینا ہے۔ کسی کے جھانسے ، بہکاوے ، فریب، لبھانے ، ورغلانے یا خوف اور لالچ سے متاثر ہوکر نہیں۔
Leave a Reply